Posts, Notes & Reflections

لوگ برابر کیوں نہیں؟

14 September 2026

Read this in English

آیت کریمہ

نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُم مَّعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّيَتَّخِذَ بَعْضُهُم بَعْضًا سُخْرِيًّا وَرَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ. (سورۃ الزخرف، آیت ۳۲)

دنیا کی زندگی میں ان کے درمیان ان کی روزی (بھی) ہم نے ہی تقسیم کی ہے اور ہم نے ان میں ایک کو دوسرے پر کئی درجے بلندکیا ہے تاکہ ان میں ایک دوسرے کو اپنا خادم بنائے اور تمہارے رب کی رحمت اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کررہے ہیں۔

سب ایک جیسے نہیں ہیں

کچھ طاقتور ہیں، کچھ کمزور۔

کچھ علم والے ہیں، کچھ کم علم۔

کچھ ہنر رکھتے ہیں، کچھ نہیں۔

کچھ مشہور ہو جاتے ہیں، کچھ گمنام رہ جاتے ہیں۔

کچھ مالدار ہیں، کچھ تنگ دست۔

کچھ اونچے مرتبے والے ہیں، کچھ سادہ زندگی گزارتے ہیں۔

یہ سب فرق اتفاقیہ نہیں۔

اس فرق کی وجہ

اگر اللہ سب کو بالکل برابر بنا دیتا

ایک جیسی طاقت، ایک جیسا علم، ایک جیسا مال، ایک جیسا مرتبہ ،

تو پھر کوئی کسی کا محتاج نہ رہتا۔ کوئی کسی کی مدد نہ کرتا۔ معاشرہ نہیں چل سکتا تھا۔

یہی فرق لوگوں کو ایک دوسرے کا محتاج بناتا ہے۔

اور اسی محتاجی سے دنیا کا نظام چلتا ہے۔

آخر میں ایک بات

آیت کے آخر میں اللہ یاد دلاتا ہے:

تمہارے رب کی رحمت اس مال سے کہیں بہتر ہے جو لوگ جمع کرتے رہتے ہیں۔

تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير لأبو عبد الله محمد بن عمر بن الحسن بن الحسين التيمي الرازي الملقب بفخر الدين الرازي خطيب الري، الزخرف:٤٣/ ٣٢، تحت الآية: ٣٢، ٢٧/ ٦٣٠، مطبوعة: دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة الثالثة - ١٤٢٠هـ

← All posts