سوال: کیا اِسٹاکس (شیئرز) کی شرعی جانچ Shariah screening کے مُروّجہ معیارات پر پورا اترنے والے کسی Index (اِنڈیکس) یا کمپنی میں سرمایہ کاری کو شرعاً جائز یا ’’ شریعت کے مطابق ‘‘ کہہ سکتے ہیں؟
(مکمل اسکریننگ کے معیارات کو AAOIFI (معیار بنانے والے ادارے ) اور PSX (پاکستان اسٹاک ایکسچینج) کی ویب سائٹ پر دیکھا جاسکتا ہے)۔ (سائل: محمد جنید، کراچی)
_____________
باسمه تعالى و تقدس الجواب:
مُروّجہ اسلامی شیئرز کی جانچ(Conventional Shariah Screening of Stocks) ، میں عموماً مشترکہ سرمایہ کمپنیوں (companies/corporations)کو شریعت کے مطابق قرار دینے کیلئے کچھ معیارات کا استعمال کیا جاتا ہے۔
بنیادی کاروبار کے ساتھ ساتھ کمپنیوں کے سُودی قرض کی مقدار، غیر شرعی سرمایہ کاری کی مقدار اور غیر شرعی آمدنی کی فیصد کو بھی مخصوص فیصدی حدود (percentage based financial criteria)، کے تحت جانچا جاتا ہے۔
اس سلسلے میں جب اسکریننگ (screening) معیارات، اِن کے تاریخی پس منظر اور متعلقہ شرعی و فقہی آراء کا جائزہ لیا گیا تو درج ذیل نتیجہ سامنے آتا ہے:
AAOIFI (معیار بنانے والے ادارے ) اور دیگر مالیاتی اداروں کے اشتراک سے شیئرز کی جانچ کے اِس نظام کو ۹۰ء کی دہائی میں نظام کو بہتر کرنے کی طرف ایک ابتدائی قدم کے طور پر پیش کیا تھا، لیکن سالوں گزرنے کے بعد بھی موجودہ جانچ کے معیارات اس مقام تک نہیں پہنچے کہ ان کو ’’شریعت کے مطابق‘‘ یا ’’جائز‘‘ کہنا درست ہو۔ خلاصہ یہ ہے کہ مستند اور غیر جانب دار علماء و فقہاء کے نزدیک، محض ان مالی حدود کو پورا کر لینا کسی کمپنی یا انڈیکس کو شرعاً جائز قرار دینے کے لیے کافی نہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں:
۱۔ شیئر ہولڈر اپنی رضامندی سے کمپنی کا مالی شریک بن کر اس کے قانونی و آئینی نظام کا حصہ بنتا ہے۔
شیئر خریدنے والا شخص اپنی رضامندی سے کمپنی کا مالی شریک بن کر اس کے قانونی و آئینی نظام کا حصہ بنتا ہے۔ اس نظام کے تحت بورڈ (board of directors) کو کمپنی کا کاروبار چلانے، اجیر رکھنے، قرضہ لینے اور سرمایہ کاری کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔تفصیل اس کی یہ ہے کہ:
کمپنی قانون کی نظر میں الگ اعتباری تشخص artificial legal entity ضرور ہے، مگر یہ ادارہ اعتباری اور غیر عاقل ہونے کی وجہ سے خود کوئی سودا نہیں کرسکتا۔ اس کے سارے معاہدے ڈائریکٹر اور بورڈ کے نمائندے کرتے ہیں، اس سلسلہ میں قانون ڈائریکٹر زکو کمپنی کا نمائندہ اور امانت دار مانتا ہے۔
اور یہ بات مسلمہ اور معلوم ہے کہ قرض لینے کا اختیار بھی ہر کمپنی کے دستور memorandum and articles میں پہلے سے شامل مانا جاتا ہے۔(کمپنیز ایکٹ ۲۰۱۷، دفعہ ۳۰، ۲۰۱، ۲۰۴)
موجودہ شرعی جانچ کے سسٹم میں کسی کمپنی کی انتظامیہ اسی تفویض شدہ اختیار کا استعمال کرتے ہوئےمشترکہ فنڈ اور اس سے لئے گئے اثاثہ جات (مُشاع ملکیت )(**) کو استعمال کرتے ہوئے کمپنی کی طرف سے سُود ادا کرے یا سُودی معاہدہ کرے تو وہ اب بھی اس مُروّجہ اسلامی اِنڈیکس کا حصہ رہے گی اور’’ شریعہ کمپلائنٹ‘‘ کہلائے گی، بشرطیکہ سودی معاہدے اور ادائیگیاں screening criteria (جانچ کے معیار) کی فیصد حدود کے اندر رہیں۔ ظاہر ہے اس بات کی رخصت نہیں دی جاسکتی، کیونکہ:
عقود کے باب میں شریعت معاملے کا ظاہری نام نہیں، اس کی حقیقت دیکھتی ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ کاروبار حصہ داروں کے جوڑے ہوئے سرمائے سے چل رہا ہے۔ تو نام چاہے کچھ بھی رکھ لیں، ڈائریکٹرز اور کمپنی انتظامیہ کی حیثیت بلا واسطہ کمپنی اور بالواسطہ شیئر ہولڈرز کے مجموعی نمائندہ اور امین ہی کی ہے۔
(درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام، تحت المادۃ ۳، «الْعِبْرَةُ فِي الْعُقُودِ للْمَقَاصِدِ وَالْمَعَانِي لَا لِلأَلْفَاظِ وَالْمَبَانِي»، ج۱/ص۵)
خلاصہ یہ ہے کہ: اپنے مشترکہ مال میں بغیر شرعی ضرورت اور اکراہ کے جو کام آدمی اپنے نمائندے یا وکیل کے ذریعے کرائے، وہ اسی کا کیا ہوا شمار ہوتا ہے۔ کمپنی کا قرض کا معاہدہ اور اس پر سود کا لین دین بھی انہی کاموں میں ہے۔ اس لیے یہ کہنے کی گنجائش نہیں کہ حصہ دار اس سے الگ ہے۔ راضی وہ اپنے پیسے سے ہوا تھا، اور پیسہ آج بھی وہیں لگا ہے۔ اسی بنا پر اکابر علمائے کرام نے ایسے حصص میں شرکت کو ناجائز فرمایا ہے۔ جیسا کہ:
مفتی اعظم پاکستان مفتی وقار الدین علیہ الرحمہ نے اپنے فتاویٰ میں اس طرح کے شیئرز میں شراکت کو ممنوع قرار دیا ۔(وقار الفتاویٰ، حضرت علامہ مفتی محمد وقار الدین قادری رضوی (مفتی اعظم پاکستان)، ۱/۲۳۴، مطبوعۃ: بزم وقار الدین، کراچی)
اور مجلس شرعی مبارکپور کے فیصلوں میں بھی علماء ِاہلنست نے اسی ممانعت کے موقف پر اتفاق کیا۔حضرت تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خاں از ہری علیہ الرحمہ ، محدث کبیر مفتی ضیاء المصطفیٰ قادری، مفتی نظام الدین رضوی دام ظلہ اور کثیر علماء و فقہاء کی اس پر تصدیق موجود ہے۔(مجلس شرعی کے فیصلے، مرتب: مفتی محمد نظام الدین رضوی برکاتی (ناظمِ مجلس شرعی و صدرِ شعبۂ افتاء جامعہ اشرفیہ، مبارک پور)، ۱/۱۴۴، مطبوعۃ: مجلس شرعی الجامعۃ الاشرفیہ، مبارک پور، ۱۴۳۵ھ-۲۰۱۴م)
**مِلکِ مُشاع :
شرعی اعتبار سے بھی مشترکہ ملکیت کی ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ دو یا زائد شریک کسی چیز میں ویلیو کے حساب سےمشترکہ ملکیت رکھتے ہیں لیکن وہ چیز تقسیم نہیں ہوئی ہوتی بلکہ اس کے ایک ایک ذرہ میں دونوں کا حصہ ہوتا ہے ، ایسی کیفیت کو مُشاع اور ایسی چیز کو مِلکِ مُشاع کہتے ہیں۔(جیسے شرکاء کی مالکانہ حیثییت کسی شرکت عنان کے اثاثوں میں)
۲۔ اصل بحث صرف فیصدی مقدار کی نہیں، خود معاملے کی نوعیت ہے۔
اگر سودی قرض یا سودی آمدنی کو ایک مخصوص تناسب سے کم ہونے کی وجہ سے قابلِ قبول سمجھا جائے، تو بنیادی سوال یہ رہتا ہے کہ سودی معاملے میں داخل ہونے کی گنجائش شرعی طور پر کس بنیاد پر پیدا ہوئی؟
۳۔ سود کی حرمت اس کی مقدار پر موقوف نہیں۔
سود کم ہو یا زیادہ، اصل حکم خود سودی معاملے سے متعلق ہے۔ محض یہ بات کہ سود ایک مقررہ فیصد سے کم ہے، اس سے سودی معاملے میں حصہ دار یا مؤکل بننے کی رخصت نہیں دی جاسکتی۔
۴۔ کمپنیوں کا سودی قرضہ لینا ، اور اِن کمپنیوں کا شیئر ہولڈر بننا دونوں کوئی شرعی ’’ضرورت‘‘ نہیں۔
سودی قرض لینا ناجائز و حرام ہے، سوائے اس شخص کے جسے شریعت مجبور قرار دے، کیونکہ جس طرح سود لینا حرام ہے، اسی طرح دینا بھی حرام ہے۔
امام اہلسنّت امام احمد رضا خان حنفی متوفی ۱۳۴۰ھ لکھتے ہیں:
’’بغیر سخت مجبوری کے، جسے شرع بھی مجبور کہے، سودی قرض لینا حرام ہے،اور اسی طرح اس کے کام میں کسی طرح کی شرکت ہو، باعثِ گناہ ہے،اور حدیث صحیح میں:’’هُم سَوَاء‘‘فرمایا ، یعنی:’’ وہ سب نفس گناہ میں برابر ہیں‘‘،اور سود سے توبہ کے یہی معنی ہیں کہ جس قدر سود لیا واپس دے اور اللہ عزوجل سے آئندہ کےلئے سچے دل سے نادم ہوکر عہد کرے (فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ 304، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
’’شرعی ضرورت ‘‘ اردو میں استعمال ہونے والی مجبوری نہیں، بلکہ ایک اصطلاح (technical term) ہے جس کا معنی یہ ہے کہ:
’’ضَرر یا مجبوری کی وہ حالت جس میں فعل یا ترکِ فعل پر ’’ کُلیاتِ خمسہ‘‘ (یعنی پانچ اہم چیزیں: جان، مال، دین، عقل، نسب) میں سے کسی ایک یا زائد کا ’’تحفّظ موقوف ‘‘ ہو اور اس فِعل / ترکِ فعل کے بغیر ’’ کلیاتِ خمسہ میں سے کوئی ایک یا زائد فوت ہو جائیں یا قریبِ فوت ہو جائیں‘‘۔شرعی ضرورت کی ایک تعبیر:’’ تکلیف ما لا یطاق‘‘ سے بھی کی جاتی ہے۔
ضرورت کے ثبوت اور تحقّق کی چند شرائط درج ذیل ہیں۔
۱۔ ضرورت فی الحال متحقّق ہو۔
۲۔ممنوع بات کا ارتکاب یا محظور کا استعمال صرف بقدر ضرورت ہو۔
۳۔ اپنے ضرر کا ازالہ اس کی مثل ضرر سے نہ کیا جائے لہٰذا کسی مضطر کو یہ حلال نہیں کہ دوسرے مضطر کا کھانا کھا کر اپنی جان بچائے۔
۴۔ یہ یقین یا ظن غالب ہو کہ محظور کا استعمال کُلیات خمسہ میں سے جس کُلّی کی حفاظت کے لئے کیا گیا تھا، اس کی حفاظت ہو جائے گی۔
۵۔ ممنوع / مَحظُور کام ، حقوق اللہ سے ہو یعنی مَحظُور حقّ العباد سے نہ ہو۔
(ماخوذ مِن : فقہ اسلامی کے سات بنیادی اصول، ص ۵۸، دار النعمان، کراچی؛بحوالہ: فواتح الرحموت، فصل فی العلۃ، ج ۲، ص ۲۶۲، ط۔ مکتبۃ التراث؛ المستصفى فی علم الاصول فوق فواتح الرحموت، ج ۱، ص ۲۸۷)
اس لیے یہ سوال اپنی جگہ رہتا ہے کہ: جب کوئی شخص رضامندی سے کمپنی میں سرمایہ لگاتا ہے اور کمپنی اسی انتظامی اختیار کے تحت سودی معاملات کرتی ہے، تو صرف یہ کہنے سے کہ: بطور اقلیتی شیئر ہولڈر میری کوئی سنوائی نہیں ہوسکتی یا سود کی مقدار مقررّہ حد سے کم ہے، وہ اِن معاملات سے کس بنیاد پر بَرِی الذِّمَّہ ہوگا ؟
۵۔ تطہیر (charity of impure income)کرنے سے سودی معاملات کا ابتدائی طور پر حِصہ بننا اور حُصول جائز نہیں ہو جاتا۔
غیر شرعی آمدنی کے محدود حصّے کو صدقہ کرنا بعض اسکریننگ نظاموں (screening criteria) میں ’’تطہیر‘‘ کہلاتا ہے۔
ناقِد فقہی موقف کے مطابق، صدقہ کرنے سے اس آمدنی کے حُصول کا عمل اور اسکے مُوجِب عقد کا قصداً بالواسطہ حصّہ بننا جائز نہیں ہو جاتا۔
ناجائز آمدنی کو بغیر ثواب کی نیت سے صدقہ کرنا صرف ایسے مال سے خلُاصی کا طریقہ ہے جو پہلے کی کسی غلطی یا لاعلمی سے حاصل ہو چکا ہو۔چند فیصد سودی آمدنی والی کمپنیوں کو اسلامی لسٹ میں رکھنے والےاِس انڈیکس میں سب کچھ جانتے ہوئے پیسے لگائے رکھنا درحقیقت توبہ اور تطہیر کی نیّت سے بار بار ایک ہی غلطی کرنے کے مترادف ہے، جو کسی طرح بھی مناسب نہیں۔
۶۔ مختلف اسکریننگ نظاموں (screening criteria) کے معیار بھی یکساں نہیں۔
دنیا بھر میں مختلف اسلامی اسٹاک انڈیکس سودی قرض، اثاثوں اور دیگر مالی تناسب کے لیے مختلف حدود اور طریقۂ کار استعمال کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے ایک ہی کمپنی ایک جانچ کے نظام میں معیار پر پوری اتر سکتی ہے اور دوسرے میں نہیں۔
۷۔ضمنی نکتہ: مُرَوَّجہ شرعی اسکریننگ کا تاریخی پس منظر:
فیصدی بنیاد پر شرعی اسکریننگ ابتدا ہی سے تمام مُستند شرعی اداروں کا متفق علیہ موقف نہیں رہی۔ 1992ء میں مجمع الفقہ الاسلامی (OIC) کی قرارداد نمبر 63 میں سودی معاملات میں ملوث کمپنی کے بارے میں نسبتاً سخت موقف اختیار کیا گیا۔
بعد میں AAOIFI نے بعض مالیاتی تناسب کے لیے مخصوص فیصدی حدود مقرر کیں، جنہیں بعد میں کئی اسلامی اسٹاک انڈیکس (stock indices)، نے بھی اپنایا۔ اس لیے موجودہ فیصدی حدود کو ایک’’اتفاقی و اجتماعی‘‘ شرعی اصول کے بجائے ، بعد کے فقہی اجتہاد کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔
یہاں AAOIFI کے حوالے سے conflict of interest کا ایک اہم علمی سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔
AAOIFI کا ادارہ جاتی ڈھانچہ اسلامی مالیاتی صنعت کے ساتھ ’’ گہرا تعلق‘‘ رکھتا ہے؛ اس کے بورڈ میں اسلامی مالیاتی اداروں کے نمائندے شامل رہے ہیں، جبکہ اس کے بعض شرعی اسکالر خود اسلامی مالیاتی اداروں کے شرعی بورڈز سے وابستہ رہے ہیں۔
اس صورتِ حال میں یہ سوال بجا طور پر اٹھایا جا سکتا ہے کہ کیا ایسے ادارہ جاتی مفادات نے، براہِ راست یا بالواسطہ، نسبتاً نرم (screening criteria)، کی تشکیل کو متاثر کیا؟ یہ دعویٰ نہیں کہ ایسا اثر لازماً ہوا، بلکہ ایک حقیقی (conflict-of-interest concern)، ہے جسے معیار سازی کے تاریخی ریکارڈ کی روشنی میں جانچنا چاہیے۔
خلاصہ ءِکلام:
کسی کمپنی یا انڈیکس کا اِسکریننگ نظاموں (screening criteria) کے مقررہ معیار پر پورا اترنا صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ متعیّن کاروباری اور مالی حدود کے اندر ہے، لیکن مُستند اور غیر جانب دار علماء و فقہاء کے نزدیک اسے کمپنی کے تمام معاملات کے ’’شرعاً درست‘‘ اور سود سے پاک ہونے کی دلیل نہیں سمجھا جا سکتا۔ لہٰذا، اِس كو جائز اور ’’شریعت کے مطابق‘‘ کے لیبل(label) سے مشتہر کرنا درست نہیں ۔
(مصادر و مراجع )
References:
Index Providers / Standard-Setting Bodies
1. Accounting and Auditing Organization for Islamic Financial Institutions (AAOIFI). Sharīʿah Standard No. 21: Financial Papers (Shares and Bonds). Manama, Bahrain: AAOIFI.
https://aaoifi.com/shariaa-standards/?lang=en
2. FTSE Russell. FTSE Yasaar Global Equity Shariah Index Series: Ground Rules, v4.6. London: FTSE Russell.
https://www.lseg.com/content/dam/ftse-russell/en_us/documents/ground-rules/ftse-yasaar-global-equity-shariah-index-series-ground-rules.pdf
3. S&P Dow Jones Indices. S&P Shariah Indices Methodology. New York: S&P Dow Jones Indices.
https://www.spglobal.com/spdji/en/documents/methodologies/methodology-sp-shariah-indices.pdf
4. MSCI Inc. MSCI Islamic Index Series Methodology. New York: MSCI Inc.
https://www.msci.com/documents/10199/8a59e89f-5134-de21-6a03-082ecfaa9e42
Fiqh Academy Resolutions
5. International Islamic Fiqh Academy (OIC). Resolution No. 63 (1/7): Financial Markets (Shares, Options, Commodities, and Credit Cards). Seventh Session, Jeddah, Saudi Arabia, 7–12 Dhū al-Qiʿdah 1412H (9–14 May 1992).
https://iifa-aifi.org/en/32438.html
Academic Journal Articles
6. Akartepe, B. B. (2022). Hisse Senedi Şerʿî İzleme Faaliyetlerinde Kullanılan Eşik Değerlere Dair Eleştirel Bir İnceleme [A Critical Examination of the Threshold Values Used in Sharīʿah Stock Screening]. International Journal of Islamic Economics and Finance Studies, 8(2), 123–151.
https://dergipark.org.tr/en/pub/ijisef/issue/71516/1129328
7. Habib, F., & Ahmad, A. U. F. (2017). Revisiting the AAOIFI Sharīʿah Standards' Stock Screening Criteria. International Journal of Business and Society, 18(S1), 151–166.
https://www.ijbs.unimas.my/images/repository/pdf/Vol18-S1-paper9.pdf
فتاویٰ و مجلس شرعی کے فیصلے:
۸۔ وقار الفتاویٰ، حضرت علامہ مفتی محمد وقار الدین قادری رضوی (مفتی اعظم پاکستان)، ۱/۲۳۴، مطبوعۃ: بزم وقار الدین، کراچی
۹۔ مجلس شرعی کے فیصلے، مرتب: مفتی محمد نظام الدین رضوی برکاتی (ناظمِ مجلس شرعی و صدرِ شعبۂ افتاء جامعہ اشرفیہ، مبارک پور)، ۱/۱۴۴، مطبوعۃ: مجلس شرعی الجامعۃ الاشرفیہ، مبارک پور، ۱۴۳۵ھ-۲۰۱۴م
۱۰۔ فقہ اسلامی کے سات بنیادی اصول، مفتی محمد نظام الدین رضوی برکاتی ، ص ۵۸، دار النعمان، طبع ثالث، ۱۴۳۵ھ، ۲۰۱۴ء، کراچی۔
Scholarly Works and Research