Posts, Notes & Reflections

قوی اور امین

حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے واقعہء مَدیَن سے ملازمت کے رہنما اصول

21 September 2026

Read this in English

کسی کو ملازم رکھنا ایک اہم فیصلہ ہے، مگر عموماً اچھی گفتگو، کسی عزیز کی سفارش یا سرسری تاثر پر آدمی رکھ لیا جاتا ہے۔

سورۂ قصص میں اللہ تعالیٰ کے دو جلیل القدر انبیاء علیہما السلام کے درمیان مدین میں طے پانے والے ایک معاہدے کا ذکر ہے۔اللہ تعالی فرماتا ہے:

‏﴿قالَت إِحداهُما يا أَبَتِ استَأجِرهُ إِنَّ خَيرَ مَنِ استَأجَرتَ القَوِيُّ الأَمينُ﴾ (القصص:٢٨/ ٢٦)

ترجمہ: ان میں سے ایک نے عرض کیا: ابا جان! انہیں اجرت پر رکھ لیجیے، بے شک بہترین وہ ہے جسے آپ اجرت پر رکھیں جو قوت والا بھی ہو اور امانت دار بھی۔

علماء نے اس آیت سے ملازم کے انتخاب، اس کی جانچ اور مالک کی ذمہ داریوں کے بارے میں بڑی قیمتی رہنمائی اخذ کی ہے۔

۱۔ اچھا کردار ملازمت سے پہلے بھی ظاہر ہوتا ہے

حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے مصر سے مدین تشریف لائے۔ وہاں کنویں پر ملاحظہ فرمایا کہ دو صاحبزادیاں اپنی بکریاں روکے ایک طرف کھڑی ہیں اور چرواہوں کا ہجوم پانی پلا رہا ہے۔ دریافت فرمانے پر انہوں نے عرض کیا کہ جب تک یہ لوگ فارغ نہ ہو جائیں ہم پانی نہیں پلا سکتیں، اور ہمارے والد بہت ضعیف ہیں (القصص: ۲۳)۔

نہ کسی نے درخواست کی تھی، نہ کسی صلے کی امید تھی۔ اس کے باوجود آپ علیہ السلام نے کنویں پر رکھا ہوا وہ پتھر ہٹایا جسے دس آدمی مل کر ہٹاتے تھے، اور ان کی بکریوں کو سیراب فرما دیا۔¹ پھر سائے میں تشریف لے گئے اور بڑی عاجزی کے ساتھ اپنے رب کی بارگاہ میں دعا کی۔

ہمارے لیے سبق یہ ہے کہ آدمی کی اصل قدر اس کے اس عمل سے پہچانی جاتی ہے جو وہ بغیر کسی غرض کے کرتا ہے۔

۲۔ مالی معاملات میں دیانت

ان صاحبزادیوں کے والدِ ماجد حضرت شعیب علیہ السلام، نے آپ کو مدعو فرمایا، آپ کا حال سنا اور تسلی دی۔ پھر کھانا پیش فرمایا۔ حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اسے قبول کرنے سے انکار فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ ہم ایسے گھرانے سے ہیں جو زمین بھر سونے کے عوض بھی اپنے دیِن کا سودا نہیں کرتے۔ جب حضرت سیدنا شعیب علیہ السلام نے واضح فرمایا کہ یہ پانی پلانے کا عوض نہیں، بلکہ مہمان نوازی میرے آباء و اجداد کی روایت ہے، تب آپ نے کھانا تناول فرمایا۔² پردیس اور حاجت کے عالم میں بھی گوارا نہ فرمایا کہ نیکی کسی عوض میں بدل لیا جائے۔

ہم جسے بھی ملازم رکھیں۔ اس میں دیانت کا معیار تلاش کرنا چاہیے۔

۳۔ امانت تنہائی میں آزمائی جاتی ہے

کنویں کے واقعہ کے بعد جب ایک صاحبزادی والدِ ماجد کا پیغام لے کر حاضر ہوئیں تو آپ علیہ السلام نے حیا اور پاسِ ادب کے سبب فرمایا کہ آپ میرے پیچھے چلیں اور راستہ بتاتی جائیں۔³ آپ کی نگاہیں جھکی رہیں۔⁴

یہ ایک سنسان راستہ تھا جہاں کوئی دیکھنے والا نہ تھا۔ امانت صرف مال کی حفاظت کا نام نہیں، بلکہ یہ اس کردار کا نام ہے جو تنہائی میں بھی قائم رہے۔

۴۔ فیصلہ دلیل کی بنیاد پر

جب صاحبزادی نے عرض کیا کہ انہیں ملازم رکھ لیجیے، تو حضرت سیدنا شعیب علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ تمہیں ان کی قوت اور امانت کا کیسے علم ہوا؟

انہوں نے اپنا مشاہدہ عرض کیا:

بھاری پتھر اٹھانا، نگاہیں جھکائے رکھنا، اور اپنے پیچھے چلنے کا فرمانا۔⁴

ہر مالک (employer) کو ہر ریفرنس اور سفارش کے بارے میں، بلکہ اپنی پہلی رائے کے بارے میں بھی، یہی سوال کرنا چاہیے: یہ بات کیسے معلوم ہوئی؟ اس کا مصدر (source) کیا ہے؟

۵۔ دونوں صفات ضروری ہیں

اس آیت کے تحت حنفی مفسر امام حافظ الدین نسفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ

یہ نہایت جامع کلام ہے۔ جب آپ کا کام سنبھالنے والے میں اہلیت اور امانت دونوں جمع ہوں تو دل مطمئن ہو جاتا ہے اور مقصد پورا ہو جاتا ہے۔⁵

اہلیت ہو مگر امانت نہ ہو تو مالک ہمیشہ فکرمند رہتا ہے۔ امانت ہو مگر اہلیت نہ ہو تو کام ادھورا رہ جاتا ہے۔ اسی لیے آیتِ کریمہ میں دونوں صفات ایک ساتھ ذکر ہوئی ہیں۔

۶۔ مشاہدہ رکھنے والوں کی رائے کی قدر

حضرت سیدنا شعیب علیہ السلام نے صاحبزادی کی رائے قبول فرمائی۔

حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے انہیں ان تین ہستیوں میں شمار فرمایا جو سب سے بڑھ کر مردم شناس تھیں۔ باقی دو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، جنہوں نے حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین منتخب فرمایا، اور عزیزِ مصر، جس نے اپنی بیوی کو حضرت سیدنا یوسف علیہ السلام کی تکریم کا کہا۔⁶

۷۔ مالک کی ذمہ داری: واضح شرائط اور نرم برتاؤ

حضرت سیدنا شعیب علیہ السلام نے معاملہ ابتداء ہی میں صاف صاف طے فرمایا:

آٹھ سال کی مدت لازم، اور دس سال پورے کرنا حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی اپنی مرضی پر۔ ساتھ ہی ارشاد فرمایا کہ میں آپ پر کوئی مشقت نہیں ڈالنا چاہتا، اور ان شاء اللہ آپ مجھے نیکوں میں سے پائیں گے (القصص: ۲۷)۔

حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے بھی اسی انداز میں قبول فرمایا کہ دونوں میں سے جو مدت بھی پوری کروں مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہو، اور ہماری بات پر اللہ تعالیٰ نگہبان ہے (القصص: ۲۸)۔

مدت کا تعین، اضافے کا اختیار، سختی نہ کرنے کا وعدہ، اور دونوں فریقوں پر اللہ تعالیٰ کی نگہبانی۔ کیا خوب انداز ہے!

آج مالک اور ملازم کے اکثر تنازعات انہی باتوں کو نظرانداز کرنے سے پیدا ہوتے ہیں۔

۸۔ حلال اجرت کا کام باوقار ہے

امام شافعی رحمہ اللہ نے اسی مقام سے استدلال فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اجارہ کا ذکر فرمایا اور اس کے بعض برگزیدہ انبیاء علیہم السلام نے اسے اختیار فرمایا۔⁷

امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: اجارہ (اُجرت پر خدمات کا لینا) ان کے ہاں جائز اور معروف تھا، اور ہر شریعت میں ایسا ہی رہا، کیونکہ انسانی زندگی اس کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی۔²

جب اللہ تعالیٰ کے ایک جلیل القدر نبی علیہ السلام نے یہ خدمت اختیار فرمائی، تو کسی مسلمان کو حلال کام میں عار محسوس نہیں کرنی چاہیے، اور نہ کسی مالک کو محنت کرنے والوں کو حقیر جاننا چاہیے۔

حوالہ جات

‏¹ الدر المنثور في التفسير بالمأثور لعبد الرحمن بن أبي بكر، جلال الدين السيوطي، القصص، ٢٣، ٦/ ٤٠٥، مطبوعة: دار الفكر، بيروت

‏² تفسير القرطبي = الجامع لأحكام القرآن لأبو عبد الله، محمد بن أحمد الأنصاري القرطبي، سورة القصص، سورة القصص (٢٨)، ١٣/ ٢٧١، مطبوعة: دار الكتب المصرية، القاهرة، الطبعة الثانية ١٣٨٤هـ-١٩٦٤م

‏³ المستدرك على الصحيحين - ط الرسالة لأبو عبد الله محمد بن عبد الله الحاكم النيسابوري، كتاب التفسير، ٢٨ - ومن سورة القصص، ٤/ ٤١٩، مطبوعة: دار الرسالة العالمية، الطبعة الأولى ١٤٣٩هـ-٢٠١٨م

‏⁴ شرح الشفا للملا علي القاري الهروي الحنفي، الجزء الأول، القسم الأول في تعظيم العلي الأعلى جل وعلا، الباب الثاني في تكميل الله تعالى له المحاسن خلقا وخلقا، فصل اعلم وفقنا الله تعالى وإياك أن صفات جميع الأنبياء والرسل عليهم الصلاة والسلام، ١/ ٣٣٢، مطبوعة: دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان، الطبعة الأولى ١٤٢١هـ-٢٠٠١م

‏⁵ تفسير النسفي = مدارك التنزيل وحقائق التأويل لأبو البركات عبد الله بن أحمد بن محمود حافظ الدين النسفي، القصص، ٢٦، ٢/ ٦٣٨، مطبوعة: دار الكلم الطيب، بيروت، الطبعة الأولى ١٤١٩هـ-١٩٩٨م

‏⁶ المصنف - ابن أبي شيبة - ت الحوت لأبو بكر عبد الله بن محمد بن أبي شيبة الكوفي العبسي، ٣٦ - كتاب المغازي، ما جاء في خلافة عمر بن الخطاب، ٧/ ٤٣٤، مطبوعة: (دار التاج - لبنان)، (مكتبة الرشد - الرياض)،، الطبعة الأولى ١٤٠٩هـ-١٩٨٩م

‏⁷ تفسير الإمام الشافعي، للشافعي أبو عبد الله محمد بن إدريس بن العباس بن عثمان بن شافع بن عبد المطلب بن عبد مناف المطلبي القرشي المكي، سورة القصص، قال الله ﷿، ٣/ ١١٦٧، مطبوعة: دار التدمرية - المملكة العربية السعودية

← All posts