لاکھوں کتابیں خرید کر کاٹی گئیں
گودام میں ایک مشین کتاب کی جلد کاٹتی ہے، کھلے صفحات اسکینر سے گزرتے ہیں، اور کاغذ ردی میں چلا جاتا ہے۔ امریکی کمپنی اینتھراپک (Anthropic) نے لاکھوں چھپی ہوئی کتابیں خرید کر یہی کیا، تاکہ اپنے مصنوعی ذہانت کے ماڈل کو تربیت دے سکے۔ عدالتی کاغذات کے مطابق کمپنی نے فروری 2024ء میں گوگل بکس کے سابق ذمہ دار ٹام ٹروی (Tom Turvey) کو ملازم رکھا اور ذمہ داری دی کہ ”دنیا کی تمام کتابیں“ حاصل کرے۔ [۱]
جج نے کتاب کے تلف کرنے کو جائز قرار دیا
جون 2025ء میں امریکی ضلعی عدالت کے جج ولیم ایلسپ (William Alsup) نے یہ عمل جائز ٹھہرایا۔ دلیل یہ تھی کہ خریدی ہوئی کتاب خریدار کی ملکیت ہے، اور جب اصل نسخہ ختم کر دیا گیا تو ڈیجیٹل نسخے نے اس کی جگہ لے لی، نقلوں میں اضافہ نہیں ہوا۔
کھٹکنے والی بات اسی میں ہے: اگر کمپنی کتابیں سنبھال کر رکھ لیتی تو اس کے پاس دو نقلیں ہوتیں اور یہی عمل خلافِ قانون ٹھہرتا۔ یعنی کتاب کا تلف کر دینا ہی اسے قانونی بنا گیا۔ [۲]
چوری شدہ ستر لاکھ کتابوں پر ڈیڑھ ارب ڈالر کا تاوان
خریداری شروع کرنے سے پہلے یہی کمپنی ستر لاکھ سے زائد کتابیں چوری کی ویب سائٹوں سے اتار چکی تھی۔ [۳] اس پر جج نے دو ٹوک فیصلہ دیا اور معاملہ ڈیڑھ ارب ڈالر کے تصفیے پر ختم ہوا، چار لاکھ سے زائد کتابوں پر تقریباً تین ہزار ڈالر فی کتاب۔ [۴]
2022ء سے پہلے کی کتاب سب سے قیمتی مال ہے
آج انٹرنیٹ کی بہت سی تحریر خود مشین کی لکھی ہوئی ہے، اس لیے ماڈل اپنی ہی پیداوار پر پلنے لگتے ہیں اور معیار گرتا جاتا ہے۔ 2022ء سے پہلے کی چھپی ہوئی کتاب اس آمیزش سے محفوظ ہے، اسی لیے پرانا ذخیرہ قیمتی ٹھہرا۔
فور او فور میڈیا (404 Media) نے جولائی 2026ء میں بتایا کہ ایک ادارہ ایسی کمپنیوں کو ایک ہزار سے دس لاکھ کتابوں تک کے تھوک سودے پیش کر رہا تھا۔ بعد میں اس ادارے نے وہ صفحہ ہٹا دیا اور کہا کہ ایسی کوئی خدمت کبھی شروع نہیں کی گئی۔ اسی رپورٹ میں ایک کتب فروش کا کہنا تھا کہ ان سودوں سے اس کا رکا ہوا مال تو نکل جاتا ہے، مگر نایاب کتابیں گودے میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ [۵]
اینتھراپک کے علاوہ کون کون یہ کر رہا ہے، اس کا ثبوت موجود نہیں؛ اسنوپس (Snopes) نے مجموعی دعوے کو بڑی حد تک درست، مگر بعض پہلوؤں میں غیر مصدقہ قرار دیا۔ [۶]
64 فیصد امریکی آج بھی چھپی کتاب پڑھتے ہیں
پیو ریسرچ سینٹر (Pew Research Center) نے اکتوبر 2025ء میں امریکی بالغوں سے پوچھا کہ گزشتہ ایک سال میں کیا پڑھا۔ 64 فیصد نے چھپی ہوئی کتاب پڑھی، 31 فیصد نے ای بک اور 26 فیصد نے آڈیو بک سنی۔ چھپی کتاب واحد صورت ہے جسے اکثریت اب بھی استعمال کرتی ہے۔ [۷]
الماری کی کتاب کسی سرور کی محتاج نہیں
ڈیجیٹل بنانے کا عمل ہمیں کتابوں کے تحفظ کے نام پر پیش کیا گیا تھا۔ ہوا یہ کہ پیسہ خرچ کر کے کتابیں خریدی گئیں اور کاغذ گودے میں بدل دیا گیا۔ ڈیجیٹل نسخہ اُس وقت تک قائم ہے جب تک کوئی سرور کا خرچ اٹھاتا رہے؛ اسے بدلا بھی جا سکتا ہے اور خاموشی سے ہٹایا بھی، اور آپ کو اطلاع تک نہ ہو گی۔
چھپی ہوئی کتاب خریدیے، اور سنبھال کر رکھیے۔ خاص طور پر وہ جو دوبارہ نہیں چھپیں گی۔
حوالہ جات
[۱] بینج ایڈورڈز، آرس ٹیکنیکا، 25 جون 2025ء
Benj Edwards, “Anthropic destroyed millions of print books to build its AI models,” Ars Technica — arstechnica.com/ai/2025/06/anthropic-destroyed-millions-of-print-books-to-build-its-ai-models/
[۲] پبلشرز ویکلی، 25 جون 2025ء — مقدمہ بارٹز بنام اینتھراپک، امریکی ضلعی عدالت شمالی کیلیفورنیا
“Federal Judge Rules AI Training Is Fair Use in Anthropic Copyright Case,” Publishers Weekly — publishersweekly.com/pw/by-topic/digital/copyright/article/98089-federal-judge-rules-ai-training-is-fair-use-in-anthropic-copyright-case.html
[۳] مصنفین کی تنظیم اتھرز گلڈ (Authors Guild)
“Mixed Decision in Anthropic AI Case” — authorsguild.org/news/mixed-decision-in-anthropic-ai-case/
[۴] ایسوسی ایٹڈ پریس — تصفیے کی حتمی منظوری 20 جولائی 2026ء
“Anthropic pays $1.5B to authors in Claude AI copyright settlement over pirated books” — aol.com/articles/anthropic-pays-1-5b-authors-170300000.html
[۵] سمانتھا کول، فور او فور میڈیا، 21 جولائی 2026ء
Samantha Cole, “AI Companies Are Buying Tons of Old Books Because They’re Free of AI Slop,” 404 Media
[۶] اسنوپس فیکٹ چیک
“Are AI companies scanning and destroying millions of books, including rare titles?” Snopes — snopes.com/fact-check/ai-companies-destroying-rare-books/
[۷] پیو ریسرچ سینٹر — سروے اکتوبر 2025ء، اشاعت 9 اپریل 2026ء
“Do Americans read print books, e-books or audiobooks more?” Pew Research Center — pewresearch.org/short-reads/2026/04/09/americans-still-opt-for-print-books-over-digital-or-audio-versions-few-are-in-book-clubs/
Scholarly Works and Research