Posts, Notes & Reflections

جو ٹیکنالوجی بناتا ہے، وہ سوچ بھی بناتا ہے

اس لیے ایک مسلمان کے لیے یہ ہنر نہیں، امانت ہے۔

25 September 2026

Read this in English

اگر آپ ٹیکنالوجی میں کام کرتے ہیں تو یہ چند باتیں آپ کے لیے ہیں۔

پہیہ ایجاد ہوا اور آگ کا استعمال سیکھا گیا، مگر یہ سب صرف اوزار تھے؛ کام آئے اور بات ختم۔ آج کی ایجادات اس سے کہیں آگے ہیں۔ یہ انسان کی سوچ، اس کی خواہشات اور اس کے جذبات تک کو بدل دیتی ہیں۔

سوشل میڈیا ہی نے فلسطین کی سچائی دنیا کو اس طرح دکھائی جو کوئی اخبار نہ دکھا سکا۔ اور یہی ایپس (Apps) ہیں جنہوں نے لاکھوں لوگوں کو بے چین کر دیا، یہاں تک کہ کسی ایک بات پر دھیان جمانا بھی مشکل ہو گیا۔ اب اے آئی وہ بنیادی ذریعہ بنتا جا رہا ہے جس سے لوگ پڑھتے، لکھتے اور سیکھتے ہیں۔

اس لیے ٹیکنالوجی سے کچھ بناتے وقت پہلا سوال یہ نہیں کہ یہ چلتا ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اسکرین کے دوسری طرف بیٹھے انسان پر اس کا کیا اثر ہو رہا ہے۔

امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نو سو سال پہلے یہ معیار بتا گئے:

وَمَقْصُودُ الشَّرْعِ مِنَ الْخَلْقِ خَمْسَةٌ: أَنْ يَحْفَظَ عَلَيْهِمْ دِينَهُمْ وَنَفْسَهُمْ وَعَقْلَهُمْ وَنَسْلَهُمْ وَمَالَهُمْ
”شریعت لوگوں کی پانچ چیزوں کی حفاظت چاہتی ہے: ان کا دین، ان کی جان، ان کی عقل، ان کی نسل اور ان کا مال۔ جو چیز ان کی حفاظت کرے وہ بھلائی ہے، اور جو انہیں نقصان پہنچائے وہ برائی ہے۔“

اس معیار پر دیکھیں تو لوگوں کا دھیان چرانے والی ایپ عقل کو نقصان پہنچاتی ہے، اور سچ پھیلانے والا پلیٹ فارم دین اور مخلوق کی خدمت کرتا ہے۔

آئیے اسی معیار پر کام کریں، اور اپنی بنائی ہوئی چیزوں سے دنیا کو اسلام کی خوبصورتی دکھائیں۔

حوالہ

‏المستصفى لأبي حامد محمد بن محمد الغزالي الطوسي، القطب الثاني في أدلة الأحكام، الأصل الرابع من الأصول الموهومة الاستصلاح، ص ١٧٤، مطبوعة: دار الكتب العلمية، الطبعة الأولى ١٤١٣هـ-١٩٩٣م

← All posts