سچی بات بھی اگر بےموقع الفاظ میں کہی جائے تو لوگ اسے سننے سے پہلے ہی رد کر دیتے ہیں۔ پہلے لباس دیکھا جاتا ہے، پھر مضمون۔
قرآن کی رہنمائی
قران کریم نے دعوت کا طریقہ خود مقرر فرمایا گیا:
ٱدْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِٱلْحِكْمَةِ وَٱلْمَوْعِظَةِ ٱلْحَسَنَةِ ۖ وَجَـٰدِلْهُم بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ
(النحل: ۱۲۵)
”اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلائیے، اور ان سے اس طریقے پر بحث کیجیے جو بہترین ہو۔“
حکم صرف یہ نہیں کہ بلاؤ، بلکہ یہ کہ کس انداز سے بلاؤ۔
غلط لفظ، غلط فہمی
لفظ اگر ایسا ہو جس میں دوسرے معنی کی گنجائش ہو، تو بات وہ نہیں پہنچتی جو کہی گئی تھی۔
سننے والا وہ سمجھتا ہے جو لفظ سے سمجھ میں آ سکتا ہے، نہ کہ وہ جو کہنے والے کے دل میں تھا۔
اس لیے نیت کی درستی کافی نہیں؛ لفظ ایسا چنا جائے جس میں غلط معنی کی گنجائش ہی نہ ہو۔
الفاظ کی طاقت
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
إنَّ مِنَ البَيَانِ لَسِحْرًا
(بخاری، کتاب الطب: ۵۷۶۷)
یعنی: بعض بیان (یعنی بات کو کھول کر مؤثر انداز میں کہنا) جادو ہوتا ہے۔
الفاظ میں دلوں کو موڑ دینے کی طاقت ہے، اور یہی طاقت اُلٹی سمت میں بھی چلتی ہے۔
ارسطو کی بات
صرف یہ جاننا کافی نہیں کہ کیا کہنا ہے، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ اسے کیسے کہنا ہے۔ (الخطابہ ۳/۱)
اس کے نزدیک کلام کی دو خوبیاں ہیں: وضوح اور مناسبت (۳/۲)، اور مناسبت کی تفصیل اس نے الگ باب میں بیان کی ہے (۳/۷) — یعنی کلام نہ اتنا پست ہو کہ سبک لگے، نہ اتنا بلند کہ موقع سے بےجوڑ ہو جائے۔
اصل معیار
ابنِ حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری (۱۰/۲۳۸) میں فرمایا کہ علماء ایجاز (کم لفظوں میں زیادہ مضمون) کی تعریف پر متفق ہیں، اور مقامِ خطابت میں اطناب (مضمون کو کھول کر بیان کرنا) کی تعریف پر بھی — بحسب المقام (یعنی موقع کے لحاظ سے)۔
فتویٰ میں اختصار، خطبے میں بسط۔ معیار مقام ہے، الفاظ کی تعداد نہیں — یہی مقتضی الحال (موقع کا تقاضا) ہے۔
بلاغت کی تعریف بھی یہی ہے:
مطابقة الكلام لمقتضى الحال مع فصاحته
یعنی کلام فصیح بھی ہو اور موقع کے مطابق بھی۔
Scholarly Works and Research