Posts, Notes & Reflections

الفاظ کا انتخاب

3 August 2026

‏سچی بات بھی اگر بےموقع الفاظ میں کہی جائے تو لوگ اسے سننے سے پہلے ہی رد کر دیتے ہیں۔ پہلے لباس دیکھا جاتا ہے، پھر مضمون۔

‏قرآن کی رہنمائی

‏قران کریم نے دعوت کا طریقہ خود مقرر فرمایا گیا:

ٱدْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِٱلْحِكْمَةِ وَٱلْمَوْعِظَةِ ٱلْحَسَنَةِ ۖ وَجَـٰدِلْهُم بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ

‏(النحل: ۱۲۵)

‏”اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلائیے، اور ان سے اس طریقے پر بحث کیجیے جو بہترین ہو۔“

‏حکم صرف یہ نہیں کہ بلاؤ، بلکہ یہ کہ کس انداز سے بلاؤ۔

‏غلط لفظ، غلط فہمی

‏لفظ اگر ایسا ہو جس میں دوسرے معنی کی گنجائش ہو، تو بات وہ نہیں پہنچتی جو کہی گئی تھی۔

‏سننے والا وہ سمجھتا ہے جو لفظ سے سمجھ میں آ سکتا ہے، نہ کہ وہ جو کہنے والے کے دل میں تھا۔

‏اس لیے نیت کی درستی کافی نہیں؛ لفظ ایسا چنا جائے جس میں غلط معنی کی گنجائش ہی نہ ہو۔

‏الفاظ کی طاقت

‏نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

إنَّ مِنَ البَيَانِ لَسِحْرًا

‏(بخاری، کتاب الطب: ۵۷۶۷)

‏یعنی: بعض بیان (یعنی بات کو کھول کر مؤثر انداز میں کہنا) جادو ہوتا ہے۔

‏الفاظ میں دلوں کو موڑ دینے کی طاقت ہے، اور یہی طاقت اُلٹی سمت میں بھی چلتی ہے۔

‏ارسطو کی بات

‏صرف یہ جاننا کافی نہیں کہ کیا کہنا ہے، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ اسے کیسے کہنا ہے۔ (الخطابہ ۳/۱)

‏اس کے نزدیک کلام کی دو خوبیاں ہیں: وضوح اور مناسبت (۳/۲)، اور مناسبت کی تفصیل اس نے الگ باب میں بیان کی ہے (۳/۷) — یعنی کلام نہ اتنا پست ہو کہ سبک لگے، نہ اتنا بلند کہ موقع سے بےجوڑ ہو جائے۔

‏اصل معیار

‏ابنِ حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری (۱۰/۲۳۸) میں فرمایا کہ علماء ایجاز (کم لفظوں میں زیادہ مضمون) کی تعریف پر متفق ہیں، اور مقامِ خطابت میں اطناب (مضمون کو کھول کر بیان کرنا) کی تعریف پر بھی — بحسب المقام (یعنی موقع کے لحاظ سے)۔

‏فتویٰ میں اختصار، خطبے میں بسط۔ معیار مقام ہے، الفاظ کی تعداد نہیں — یہی مقتضی الحال (موقع کا تقاضا) ہے۔

‏بلاغت کی تعریف بھی یہی ہے:

مطابقة الكلام لمقتضى الحال مع فصاحته

‏یعنی کلام فصیح بھی ہو اور موقع کے مطابق بھی۔

← All posts